پیانگ یا نگ،۹/جون (آئی این ایس انڈیا) شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہاٹ لائن رابطہ منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تمام رابطے منقطع کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔
واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کی افواج اور صدارتی دفاتر کے درمیان رابطوں کے لیے دو ہاٹ لائنز قائم ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام تبادلہ خیال کرتے ہیں۔پیانگ یانگ حکومت گزشتہ کئی روز سے پڑوسی ملک کو دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے شمالی کوریا مخالف لٹریچر اور دیگر سامان سرحد پار بھیجنے والے باغیوں کو نہ روکا تو بین الکوریائی رابطہ دفتر اور دیگر منصوبے بند کر دیئے جائیں گے۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کے سی این اے‘ نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی کوریا میں موجود باغیوں کی جانب سے ایسے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جن سے ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے وقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر پیانگ یانگ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جنوبی کوریا کے حکام کے ساتھ براہِ راست کوئی رابطہ رکھا جائے اور نہ کسی معاملے پر ان سے تبادلہ خیال کیا جائے کیوں کہ وہ ہماری پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا سے رابطے منقطع کرنے کا فیصلہ کم جونگ ان کی بہن اور مشیر کم یو جانگ اور حکمران جماعت کے نائب چیئرمین کم یونگ چول نے کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کم یو جانگ نے اپنے ایک بیان میں جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی معاہدہ ختم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے لیے قائم دفتر بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ منگل کی صبح جب شمالی کوریا سے ہاٹ لائن پر روزانہ کی بنیاد پر کیا جانے والا معمول کا رابطہ کیا گیا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی ملٹری ہاٹ لائن پر کال وصول کی گئی۔جنوبی کوریا کی بین الکوریائی امور کی ذمہ دار وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان روزانہ ہاٹ لائن پر رابطہ کمیونی کیشن کا بنیادی حصہ ہے جسے برقرار رہنا چاہیے۔